یہ مذہبی تعلیم کس طرح پہلے سے دی جانے والی مذہبی تعلیم سے مختلف ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ سوال بہت اہم ہے کہ اِس بلاگ کے ذریعے کس طرح کی تعلیم دی جائے گی جو پہلے سے مختلف ہے۔
یہ تعلیم دو پہلوؤں سے مختلف ہے۔
1۔ اسلامی تشخص کے اعتبار سے۔ یعنی اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے والی مباحث پیش کی جائیں گی۔ کوشش کی جائے گی کہ یہ تعلیم آپ کو فرقے کی عینک سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی صلاحیت دے دے۔ہم فقہی اعتبار سے ممکن ہے شیعہ یا سنی ہوں لیکن بنیادی شناخت کے اعتبار سے مسلمان ہیں اور اُمت مسلمہ کا جزو ہیں۔ مسلمان کی اصطلاح معمولی نہیں ہے۔ جیسے سورہ بقرہ آیت نمبر 132 میں ارشاد باری تعالی ہے:
ّّاور اسی بات کی ابراہیم علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو وصیت کی کہ اے میرے فرزندو! اللہ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کر دیا ہے۔ اب اُس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک واقعی مسلمان نہ ہو جاؤ۔ "
اور سورہ بقرہ آیت 133 میں ارشاد ہوا: کیا تم اس وقت تک موجود تھے جب یعقوب علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور اُنہوں نے اپنی اولاد سے پوچھا کہ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو انہوں نے کہا کہ اپ کے اور آپ کے آباؤ و اجداد ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کے پروردگار خدائے وحدہ لا شریک کی اور ہم اسی کے مسلمان اور فرمانبردار ہیں۔
سورہ بقرہ: 136 میں ارشاد ہوتا ہے: اور مسلمانو! تم ان سے کہو کہ ہم اللہ پر اور جو اس نے ہماری طرف بھیجا ہے اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اولاد یعقوب علیھم السلام کی طرف نازل کیا ہے اور جو موسیٰ، عیسیٰ اور انبیاء علیھم السلام کو پروردگار کی طرف سے دیا گیا ہے ان سب پر ایمان لے آئے ہیں ہم پیغمبروں علیھم السلام میں تفریق نہیں کرتے اور ہم خدا کے سچے مسلمان ہیں۔
سورہ آلعمران۔ آیت 52۔ پھر جب عیسیٰؑ نے قوم سے کفر کا احساس کیا تو فرمایا کہ کون ہے جو خد اکی راہ میں میرا مددگار ہو۔۔۔ حوارین نے کہا۔ کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔ اس پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
سورہ العمران۔ ایت 64۔اے پیغمبر آپ کہہ دیں کہ اہل کتاب آؤ ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کر لیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔ آپس میں ایک دوسرے کو خدائی کا درجہ نہ دیں اور اس کے بعد بھی یہ لوگ منہ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گزار ہیں۔
اسی طرح سورہ آلعمران 80میں ارشاد ہوتا ہے۔ وہ یہ حکم بھی نہیں دے سکتا کہ ملائکہ یا انبیاء کو اپنا پروردگار بنا لو کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے جب کہ تم لوگ مسلمان ہو۔
سورہ آلعمران۔آیت 84: پیغمبر ان سے کہہ دیجئے کہ ہمارا ایمان اللہ پر ہے اور جو ہم پر نازل ہوا ہے اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اسباط علیھم السلام پر نازل ہوا ہے اور جو موسی، عیسی اور انبیاء علیھم السلام کو خدا کی طرف سے دیاگیا ہے ان سب پر ہے۔ ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے ہیں اور ہم خدا کے اطاعت گزار مسلمان ہیں۔
آلعمران۔ آیت 102۔ ایمان والو! اللہ سے ڈرو جو ڈرنے کا حق ہے اور خبردار اس وقت تک نہ مرنا جب تک مسلمان نہ ہو جاؤ۔
المائدہ۔ آیت 111۔ اور جب ہم نے حوارین کی طرف الہام کیا کہ ہم پر اور ہمارے رسولوں پر ایمان لے آؤ تو انہوں نے کہا ہم کہ ایمان لے آئے اور تو گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں۔
سورہ نمل۔ آیت 81۔ اور آپ اندھوں کو بھی ان کی گمراہی سے راہ راست پر نہیں لا سکتے ہیں آپ اپنی آواز صرف ان لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارے سامنے تسلیم (مسلمان) ہیں۔
سورہ انعام آیت 163: اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔
سورہ بقرہ۔ 128۔ پروردگار! ہم دونوں کو اپنا مسلمان اور فرمانبردار قرار دے دے اور ہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار (مسلمان) امت پید اکر ۔ہمیں ہمارے مناسک دکھلا دے اور ہماری توبہ قبول فرما کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
سورہ اعراف آیت 126 میں جادوگر جب فرعون کے محل میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے ہیں تو فرعون انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دیتاہے اس پر وہ یہ دعا کرتے ہیں: اور تو ہم سے صرف اس بات پر ناراض ہے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں۔ خدایا ہم پر صبر کی بارش فرما اور ہمیں مسلمان دنیا سے اٹھانا۔
ان آیات کے علاوہ بہت آیات موجود ہیں جن میں مسلمان کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے اور اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ عنوان کس قدر مقدس اور عظیم ہے۔
دوسرے پہلو سے متعلق اگلی پوسٹ میں بات کریں گے۔ ان شاء اللہ
Inshallah
جواب دیںحذف کریںAnxiously waiting for next post