بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہم نے کہا تھا کہ ایڈوانس مذہبی تعلیم روایتی مذہبی تعلیم سے دو پہلوؤں سے فرق کرے گا۔ ایک پہلو بیان ہو چکا ہے۔ دوسرے پہلو پر بات کرتے ہیں
معمولاً جب عوام کے لئے دینی تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو جس قسم کے کورسز یا مواد سامنے آتے ہیں وہ عقائد، احکام، اخلاق، سیرت وغیرہ سے مربوط ہوتے ہیں۔
عقائد میں توحید سے متعلق جو مباحث پڑھائی جاتی ہیں وہ صرف نظری (Theory) کی حد تک محدود ہوتی ہیں۔ مثلاً خدا خالق ہے، مالک ہے، رب اور رازق ہے ۔ زیادہ سے زیادہ صفات ثبوتیہ اور سلبیہ پڑھائی جاتی ہیں۔ البتہ کراچی میں علم و عمل پبلکیشن نے جو اسلامیات تیار کی ہے اُس میں توحید کے لئے فلسفی دلائل کو شامل کیا ہے۔
اِسی طرح نبوت کے باب میں ہم پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے متعلق معلومات پیش کرتے ہیں۔ سیرت کا کچھ حصہ ہمارے پاس ہے جسے بیان کرتے ہیں۔ غور کریں تو سمجھ میں آئے گا کہ جیسے ہمارے پاس توحید سے زیادہ پیامبر اکرم (ص) کے بارے میں کہنے کے لئے موجود ہے۔
اِسی طرح جب ائمہ طاہرینؑ سے متعلق پڑھاتے ہیں تو اب ہمارے پاس فضائل و مناقب کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ امامت سے متعلق ایک آدھ باب شامل کیا جاتا ہے۔ امام کی خصوصیات وغیرہ۔
عدل، قیامت سے متعلق بھی ہمارے پاس بہت زیادہ مواد نہیں ہے۔
احکام میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ توضیح المسائل زیادہ سے زیادہ پڑھائی جائے۔
کچھ اخلاقی کہانیاں شامل کر کے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچوں کی اخلاقی تربیت انجام دے دی ہے۔
اِس بلاگ کے ذریعے ہم عقائد کو اس انداز سے پڑھیں گے کہ ہم اور ہمارا معاشرہ بدل سکے۔ ہم چاہیں گے کہ توحید کے مطالب کچھ اس انداز سے پڑھیں کہ ہماری زندگی بدل سکے۔ نبوت کو اس انداز سے لیں کہ اپنی زندگی کو پیامبر اکرم (ص) کے مطابق ڈھال سکیں۔ سیرت ایسی چیز نہ رہ جائے جسے صرف بیان کیا جائے بلکہ اپنایا جائے۔
احکام سے زیادہ اجتماعی معاملات اور مسائل پر بات ہو گی۔ اخلاق کو اس انداز سے پڑھایا جائے گا جو قرآن نے تصور دیا ہے۔ ان شاء اللہ
انشاء اللہ
جواب دیںحذف کریں