توحید

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

موضوع: توحید

درس اول

1۔ہم سب جانتے ہیں کہ توحید یعنی ایک معبود کا تصور۔ یعنی خدا ایک ہے۔وہی خالق، مالک اور رازق ہے۔ اُس کا کوئی شریک نہیں۔ اُس کی کچھ صفات ایسی ہیں جو اگر نہ ہوں تو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ کچھ صفات ایسی ہیں جو اگر اُس میں پائی جائیں تو وہ خدا نہیں رہے گا۔ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہ عالم، قادر، حی (زندہ)، اِس کائنات پر اُس کے ارادے کا حاوی ہونا، کائنات کی تمام مخلوقات سے متعلق آگاہ، کلام کا مالک اور سچا ہے۔ وہ مرکب نہیں ہے، جسم و جسمانیت سے پاک ہے، اُسے کسی نے خلق نہیں کیا، وہ ظاہری آنکھ سے دیکھا نہیں جا سکتا، اُس کا کوئی شریک نہیں، کسی چیز میں حلول نہیں کرتا، تمام کائنات اُس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔

 

2۔توحید کا عقیدہ کسی سےسن کر اور دوسروں کی پیروی کر کے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے پاس عقلی دلیل ہونی چاہیے کہ خدا ہے۔ اگرچہ کائنات کا ذرہ ذرہ خدا کے وجودپر دلالت کرتا ہے لیکن شیطان کے وسوسوں کی وجہ سے اِس وقت یونیورسٹیوں میں الحاد شدت سے پھیل رہا ہے۔ہمیں  خود بھی خدا کے ہونے پر مکمل یقین تک پہنچنا ہے اور اپنے بچوں کو بھی پہنچانا ہے۔خدا کے وجود پر عقلی دلائل:

1۔ دنیا میں جب بھی کوئی حرکت ہوتی ہے تو اُس کے پیچھےکوئی نہ کوئی محرک موجودہوتا ہے۔ مثلاً ایک پتھر اپنی جگہ سے کبھی نہیں ہلتا، جب تک اُسے کوئی حرکت دینے والا نہ ہو۔ چاہیے زلزلہ اس بات کا باعث بنے، چاہیے پانی یا ہوا ہو یا کوئی انسان جو اُس پتھر کو حرکت دے تب ہی وہ حرکت کرے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ کہکہشائیں، سورج، چاند، زمین سب حرکت میں ہیں۔ یہ کیسے حرکت میں ہیں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ خود بخود حرکت میں ہیں یا کسی حرکتی قانون کے تحت حرکت کر رہے  ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ قانون کس نے بنایا؟

2۔ اگر ایک کمرے کو بے ترتیب چیزوں اور سامان سے بھر دیا جائے تو اگر وہ سینکڑوں سال بھی پڑا رہے، جب تک کوئی اُسے ترتیب سے رکھنے نہیں آئے گا، وہ ویسی ہی پڑی رہیں گی۔ جب ہم کائنات کی جانب نگاہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہر چیز اپنی جگہ پر موجود ہے اور اپنا کام کر رہی ہے۔ سورج اپنے مدار میں حرکت کر رہا ہے، چاند اور زمین اپنے اپنے مدار میں حرکت کر رہے ہیں۔ زمین پر حیات کے لئے ہر چیز مناسب حالت میں موجود ہے۔ کسی چیز کی کمی یا زیادتی نہیں۔ یہ کون ہے جس نے یہ سب ایک ترتیب سے اور منطم انداز سے بنا رکھا ہے؟ کیا کسی انتظام کرنے والے کے بغیر یہ سب چل سکتا ہے؟

3۔ اِس کائنات میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ بامقصد ہے۔ کوئی چیز بے مقصد یا فضول نظر نہیں آتی۔ اگر کسی مشین کے تمام اجزاء بامقصد ہوں تو مکمل مشین بھی بامقصد ہوگی۔ اگر اس کائنات کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بھی فضول نہیں ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ کائنات فضول میں بنی ہو۔

4۔ جب کبھی ہمارے سامنے کوئی مشین، گاڑی یا عمارت آتی ہے تو ہم کبھی یہ نہیں کہتے کہ یہ اتفاق سے خود ہی بن گئی ہو۔ کہیں خود بخود لوہے کے پرزے اکٹھے ہو گئے ہوں گے، کہیں خود بخود اینٹیں، سیمنٹ اور گارا اکٹھا ہو گیا ہوگا۔ ہم یہ نہیں کہتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی بنانے والا ہے۔ اگر ان معمولی مشینوں اور عمارتوں کے متعلق یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اتفاقی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ کائنات اتفاق سے بن گئی ہو۔

خداکے وجود سے متعلق ایک کتاب موجود ہے۔ مطالعے کے لئے اچھی کتاب ہے۔

The Evidence of God in an Expanding Universe: Forty American Scientists Declare their Affirmative Views on Religion: Jhon Clover Monsma

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

یہ مذہبی تعلیم کس طرح پہلے سے دی جانے والی مذہبی تعلیم سے مختلف ہے؟